غزل

ردیف الف

  1. نہیں کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپنا
  2. میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا
  3. کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا
  4. اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کا
  5. آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوا

ردیف ب

  1. تمہارے ہجر میں رہتا ہے ہم کو غم میاں صاحب

ردیف ت

  1. ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

ردیف ج

  1. غیر کے ہاتھ میں اس شوخ کا دامان ہے آج

ردیف ح

  1. یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح
  2. نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیح
  3. کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح
  4. دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبح

ردیف ر

  1. عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھر

ردیف ڑ

  1. رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑ

ردیف ز

  1. کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگز

ردیف س

  1. یاں تلک کے ہے ترے ہجر میں فریاد کہ بس
  2. کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبس

ردیف ش

  1. تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش
  2. تیری مخمور چشم اے مے نوش

ردیف ق

  1. کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائق

ردیف ک

  1. دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلک

ردیف م

  1. ایسا کہاں حباب کوئی چشم تر کہ ہم

ردیف ن

  1. یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔ
  2. تیری آنکھیں بڑی سی پیاری ہیں
  3. ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاں
  4. سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں
  5. ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں
  6. نہ مرے پاس عزت رمضاں
  7. مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں
  8. لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیں
  9. خوب رو جو ایک کا محبوب نہیں
  10. خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں
  11. ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیں
  12. ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویں
  13. غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں
  14. داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوں
  15. آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں

ردیف و

  1. شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

ردیف ی

  1. نہیں تم مانتے میرا کہا جی
  2. کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشی
  3. ایک ہی جام کو پلا ساقی
  4. تم سے اب کامیاب اور ہی ہے
  5. تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے
  6. قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے
  7. مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے
  8. مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے
  9. کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہے
  10. ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے
  11. عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے