غزل
ردیف الف
- نہیں کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپنا
- میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا
- کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا
- اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کا
- آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف ج
ردیف ح
- یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح
- نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیح
- کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح
- دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبح
ردیف ر
ردیف ڑ
ردیف ز
ردیف س
ردیف ش
ردیف ق
ردیف ک
ردیف م
ردیف ن
- یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔ
- تیری آنکھیں بڑی سی پیاری ہیں
- ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاں
- سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں
- ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں
- نہ مرے پاس عزت رمضاں
- مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں
- لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیں
- خوب رو جو ایک کا محبوب نہیں
- خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں
- ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیں
- ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویں
- غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں
- داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوں
- آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں
ردیف و
ردیف ی
- نہیں تم مانتے میرا کہا جی
- کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشی
- ایک ہی جام کو پلا ساقی
- تم سے اب کامیاب اور ہی ہے
- تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے
- قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے
- مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے
- مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے
- کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہے
- ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے
- عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے