غزل
ردیف الف
- پہلے شرما کے مار ڈالا
- کیا گلہ اس کا جو میرا دل گیا
- کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا
- کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترا
- جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیا
- داروئے درد نہاں راحت جانی صنما
- بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا
- برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا
ردیف ر
ردیف ش
ردیف ض
ردیف ق
ردیف ک
ردیف ن
- طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیں
- سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میں
- مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں
- میں یار کا جلوا ہوں
ردیف و
- تم خفا ہو تو اچھا خفا ہو
- پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہو
- کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہو
- عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو
ردیف ہ
ردیف ی
- یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی
- شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشی
- کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشی
- دل لیا جان لی نہیں جاتی
- چھڑا پہلے پہل جب ساز ہستی
- یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے
- اس کو دنیا اور نہ عقبیٰ چاہئے
- تیری الفت شعبدہ پرواز ہے
- قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے
- قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہے
- پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے
- نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہے
- نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرے
- مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے
- کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے
- کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے
- ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے
- ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرے
- گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے
- غمزہ پیکان ہوا جاتا ہے
- بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے
- اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے
- اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے
- اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے
- اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائے