غزل

ردیف الف

  1. پہلے شرما کے مار ڈالا
  2. کیا گلہ اس کا جو میرا دل گیا
  3. کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا
  4. کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترا
  5. جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیا
  6. داروئے درد نہاں راحت جانی صنما
  7. بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا
  8. برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا

ردیف ر

  1. مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر

ردیف ش

  1. میں غش میں ہوں مجھے اتنا نہیں ہوش

ردیف ض

  1. نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض

ردیف ق

  1. سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشق

ردیف ک

  1. یہ خسروی و شوکت شاہانہ مبارک
  2. مبارک ساقیٔ ستاں مبارک

ردیف ن

  1. طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیں
  2. سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میں
  3. مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں
  4. میں یار کا جلوا ہوں

ردیف و

  1. تم خفا ہو تو اچھا خفا ہو
  2. پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہو
  3. کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہو
  4. عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو

ردیف ہ

  1. نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاق بت خانہ

ردیف ی

  1. یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی
  2. شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشی
  3. کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشی
  4. دل لیا جان لی نہیں جاتی
  5. چھڑا پہلے پہل جب ساز ہستی
  6. یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے
  7. اس کو دنیا اور نہ عقبیٰ چاہئے
  8. تیری الفت شعبدہ پرواز ہے
  9. قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے
  10. قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہے
  11. پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے
  12. نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہے
  13. نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرے
  14. مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے
  15. کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے
  16. کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے
  17. ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے
  18. ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرے
  19. گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے
  20. غمزہ پیکان ہوا جاتا ہے
  21. بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے
  22. اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے
  23. اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے
  24. اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے
  25. اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائے