غزل

ردیف الف

  1. جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا
  2. کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گا
  3. وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگا
  4. اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا
  5. نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہونا
  6. عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیا
  7. آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا
  8. نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھا
  9. صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کا
  10. یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہونا
  11. ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا
  12. کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا
  13. ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھا
  14. میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتا

ردیف س

  1. جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاس

ردیف م

  1. تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم

ردیف ن

  1. پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوں
  2. کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں
  3. امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں
  4. اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میں
  5. اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں
  6. جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں

ردیف و

  1. پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو

ردیف ی

  1. ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کی
  2. اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی
  3. اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیے