غزل
ردیف الف
- جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا
- کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گا
- وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگا
- اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا
- نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہونا
- عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیا
- آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا
- نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھا
- صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کا
- یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہونا
- ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا
- کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا
- ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھا
- میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتا
ردیف س
ردیف م
ردیف ن
- پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوں
- کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں
- امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں
- اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میں
- اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں
- جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں