غزل
ردیف الف
- بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گا
- حجاب دور تمہارا شباب کر دے گا
- معشوق ہمیں بات کا پورا نہیں ملتا
- شمع مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا
- آپ ہیں بے گناہ کیا کہنا
- جو تماشا نظر آیا اسے دیکھا سمجھا
- ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا
- دل ہے مشتاق جدا آنکھ طلب گار جدا
- تمہیں ہم چاہتے تو ہیں مگر کیا
- نہ کیوں کر نذر دل ہوتا نہ کیوں کر دم مرا جاتا
- دل چرا لے گئی دزدیدہ نظر دیکھ لیا
- اب اس سے کیا تمہیں تھا یا امیدوار نہ تھا
- تیشے سے کوئی کام نہ فرہاد سے ہوا
- بنی تھی دل پہ کچھ ایسی کی اضطراب نہ تھا
- تم ہمارے دل شیدا کو نہیں جانتے کیا
ردیف پ
ردیف ح
ردیف د
ردیف ر
ردیف ض
ردیف ک
ردیف م
- بیتاب رہیں ہجر میں کچھ دل تو نہیں ہم
- ہیں نکہت گل باغ میں اے باد صبا ہم
- ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمام
ردیف ن
- جھوٹ سچ آپ تو الزام دیئے جاتے ہیں
- دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں
- کیوں کہہ کے دل کا حال اسے بد گماں کروں
- وہ سن کر حور کی تعریف پردے سے نکل آئے
- لڑائیں آنکھ وہ ترچھی نظر کا وار رہنے دیں
- شوق اپنا آپ میں اپنی زباں سے کیوں کہوں
- عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیں
- اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیں
- حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوں
- نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیں
- نہ ارماں بن کے آتے ہیں نہ حسرت بن کے آتے ہیں
- ہو کے مجبور آہ کرتا ہوں
ردیف و
- آ گئے پھر ترے ارمان مٹانے ہم کو
- بزم دشمن میں بلاتے ہو یہ کیا کرتے ہو
- عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھو
- دونوں ہی کی جانب سے ہو گر عہد وفا ہو
- بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو
ردیف ی
- پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھی
- وہ دیکھتے جاتے ہیں کنکھیوں سے ادھر بھی
- میرے ہمراہ مرے گھر پہ بھی آفت آئی
- ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے
- عاشق ہیں مگر عشق نمایاں نہیں رکھتے
- ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہے
- منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
- صبر آتا ہے جدائی میں نہ خواب آتا ہے
- خدا رکھے تجھے میری برائی دیکھنے والے
- جو تجھے امتحان دیتا ہے
- اور ساقی پلا ابھی کیا ہے
- اٹھے تری محفل سے تو کس کام کے اٹھے
- قیامت ہے جو ایسے پر دل امیدوار آئے
- جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھے
- وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے