غزل

ردیف الف

  1. بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گا
  2. حجاب دور تمہارا شباب کر دے گا
  3. معشوق ہمیں بات کا پورا نہیں ملتا
  4. شمع مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا
  5. آپ ہیں بے گناہ کیا کہنا
  6. جو تماشا نظر آیا اسے دیکھا سمجھا
  7. ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا
  8. دل ہے مشتاق جدا آنکھ طلب گار جدا
  9. تمہیں ہم چاہتے تو ہیں مگر کیا
  10. نہ کیوں کر نذر دل ہوتا نہ کیوں کر دم مرا جاتا
  11. دل چرا لے گئی دزدیدہ نظر دیکھ لیا
  12. اب اس سے کیا تمہیں تھا یا امیدوار نہ تھا
  13. تیشے سے کوئی کام نہ فرہاد سے ہوا
  14. بنی تھی دل پہ کچھ ایسی کی اضطراب نہ تھا
  15. تم ہمارے دل شیدا کو نہیں جانتے کیا

ردیف پ

  1. عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ

ردیف ح

  1. رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح

ردیف د

  1. مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند

ردیف ر

  1. دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر
  2. کب تک کریں گے جبر دل ناصبور پر
  3. بیچنے آئے کوئی کیا دل شیدا لے کر

ردیف ض

  1. لطف سے مطلب نہ کچھ میرے ستانے سے غرض

ردیف ک

  1. کیا ملے آپ کی محفل میں بھلا ایک سے ایک

ردیف م

  1. بیتاب رہیں ہجر میں کچھ دل تو نہیں ہم
  2. ہیں نکہت گل باغ میں اے باد صبا ہم
  3. ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمام

ردیف ن

  1. جھوٹ سچ آپ تو الزام دیئے جاتے ہیں
  2. دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں
  3. کیوں کہہ کے دل کا حال اسے بد گماں کروں
  4. وہ سن کر حور کی تعریف پردے سے نکل آئے
  5. لڑائیں آنکھ وہ ترچھی نظر کا وار رہنے دیں
  6. شوق اپنا آپ میں اپنی زباں سے کیوں کہوں
  7. عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیں
  8. اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیں
  9. حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوں
  10. نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیں
  11. نہ ارماں بن کے آتے ہیں نہ حسرت بن کے آتے ہیں
  12. ہو کے مجبور آہ کرتا ہوں

ردیف و

  1. آ گئے پھر ترے ارمان مٹانے ہم کو
  2. بزم دشمن میں بلاتے ہو یہ کیا کرتے ہو
  3. عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھو
  4. دونوں ہی کی جانب سے ہو گر عہد وفا ہو
  5. بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو

ردیف ی

  1. پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھی
  2. وہ دیکھتے جاتے ہیں کنکھیوں سے ادھر بھی
  3. میرے ہمراہ مرے گھر پہ بھی آفت آئی
  4. ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے
  5. عاشق ہیں مگر عشق نمایاں نہیں رکھتے
  6. ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہے
  7. منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
  8. صبر آتا ہے جدائی میں نہ خواب آتا ہے
  9. خدا رکھے تجھے میری برائی دیکھنے والے
  10. جو تجھے امتحان دیتا ہے
  11. اور ساقی پلا ابھی کیا ہے
  12. اٹھے تری محفل سے تو کس کام کے اٹھے
  13. قیامت ہے جو ایسے پر دل امیدوار آئے
  14. جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھے
  15. وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے