غزل
ردیف الف
- یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا
- شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا
- ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانا
- پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا
- نالے میں کبھی اثر نہ آیا
- کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا
- کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا
- حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرا
- گردش چشم یار نے مارا
ردیف ن
- ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاں
- جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں
- حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں
- ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں
- آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں