غزل

ردیف الف

  1. یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا
  2. شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا
  3. ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانا
  4. پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا
  5. نالے میں کبھی اثر نہ آیا
  6. کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا
  7. کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا
  8. حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرا
  9. گردش چشم یار نے مارا

ردیف ن

  1. ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاں
  2. جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں
  3. حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں
  4. ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں
  5. آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں

ردیف و

  1. کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنو

ردیف ی

  1. رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہے
  2. اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے
  3. درد دل میں کمی نہ ہو جائے