غزل

ردیف الف

  1. شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہا
  2. اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرا
  3. کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتا

ردیف ن

  1. ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیں
  2. ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیں

ردیف و

  1. غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہو

ردیف ی

  1. جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کی
  2. دل لیے اور دکھا دکھا کے لیے
  3. ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والے
  4. عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے