غزل
ردیف الف
- تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہا
- میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا
- لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا
- کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا
ردیف ث
ردیف خ
ردیف ذ
ردیف ر
ردیف ز
ردیف ن
- یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیں
- شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں
- جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں
- دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں
ردیف و
- یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہو
- کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہو
- کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو