غزل

ردیف الف

  1. تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہا
  2. میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا
  3. لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا
  4. کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا

ردیف ث

  1. پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبث

ردیف خ

  1. نہ فقط یار بن شراب ہے تلخ

ردیف ذ

  1. یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ

ردیف ر

  1. فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر

ردیف ز

  1. مت ستا مجھ کو آن آن عزیز

ردیف ن

  1. یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیں
  2. شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں
  3. جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں
  4. دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں

ردیف و

  1. یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہو
  2. کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہو
  3. کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو

ردیف ی

  1. تیغ چڑھ اس کی سان پر آئی
  2. رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی
  3. جادو تھی سحر تھی بلا تھی
  4. جا کہے کوئے یار میں کوئی
  5. زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے
  6. کوئی سمجھائیو یارو مرا محبوب جاتا ہے
  7. عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے