غزل

ردیف الف

  1. چراغ حسن ہے روشن کسی کا
  2. فلک نے ابر مرے سینہ کا بخار کیا
  3. کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کا
  4. اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا
  5. سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھا

ردیف ر

  1. یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کر

ردیف ص

  1. خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقص

ردیف غ

  1. غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ

ردیف ق

  1. خوں بہانے کے ہیں ہزار طریق

ردیف ل

  1. مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چل

ردیف ن

  1. صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں

ردیف و

  1. بدلنے رنگ سکھلائے جہاں کو

ردیف ی

  1. آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگی
  2. وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہے
  3. لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے