غزل

ردیف الف

  1. یار کو ہم نے برملا دیکھا

ردیف ث

  1. کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبث

ردیف ح

  1. دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرح

ردیف د

  1. کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند

ردیف ط

  1. رکھا سر پر جو آیا یار کا خط

ردیف ظ

  1. ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

ردیف ن

  1. غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں
  2. دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں

ردیف ی

  1. بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی
  2. کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے
  3. جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے
  4. ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے