غزل
ردیف الف
- تیر نظر سے چھد کے دل افگار ہی رہا
- تیرے عالم کا یار کیا کہنا
- پر نور جس کے حسن سے مدفن تھا کون تھا
- جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوا
- جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا
- جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا
- ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیا
- فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنا
- عالم میں ہرے ہوں گے اشجار جو میں رویا
ردیف ق
ردیف م
ردیف ن
- ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں
- تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں
- سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں
- رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں
- رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں
- پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں
- پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں
- ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیں
- موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں
- کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوں
- الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیں
- ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں
- گدائے دولت دیدار یار ہم بھی ہیں
- دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں
- دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں
- چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں
- چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاں
ردیف ی
- وہ رنگت تو نے اے گل رو نکالی
- خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کی
- جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کی
- گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی
- آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کی
- اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیے
- تری ہوس میں جو دل سے پوچھا نکل کے گھر سے کدھر کو چلیے
- تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلے
- سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے
- رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے
- لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے
- عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے
- ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھے
- درپیش اجل ہے گنج شہیداں خریدیے
- بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہے