غزل

ردیف الف

  1. تیر نظر سے چھد کے دل افگار ہی رہا
  2. تیرے عالم کا یار کیا کہنا
  3. پر نور جس کے حسن سے مدفن تھا کون تھا
  4. جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوا
  5. جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا
  6. جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا
  7. ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیا
  8. فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنا
  9. عالم میں ہرے ہوں گے اشجار جو میں رویا

ردیف ق

  1. ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشق

ردیف م

  1. ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسم

ردیف ن

  1. ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں
  2. تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں
  3. سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں
  4. رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں
  5. رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں
  6. پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں
  7. پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں
  8. ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیں
  9. موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں
  10. کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوں
  11. الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیں
  12. ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں
  13. گدائے دولت دیدار یار ہم بھی ہیں
  14. دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں
  15. دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں
  16. چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں
  17. چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاں

ردیف ی

  1. وہ رنگت تو نے اے گل رو نکالی
  2. خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کی
  3. جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کی
  4. گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی
  5. آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کی
  6. اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیے
  7. تری ہوس میں جو دل سے پوچھا نکل کے گھر سے کدھر کو چلیے
  8. تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلے
  9. سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے
  10. رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے
  11. لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے
  12. عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے
  13. ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھے
  14. درپیش اجل ہے گنج شہیداں خریدیے
  15. بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہے