غزل

ردیف الف

  1. یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
  2. رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا
  3. قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
  4. پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
  5. نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
  6. نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
  7. نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
  8. نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
  9. کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا
  10. جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
  11. ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

ردیف چ

  1. ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ

ردیف د

  1. سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود

ردیف ر

  1. کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور

ردیف ڑ

  1. دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ

ردیف ف

  1. شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف

ردیف ل

  1. نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
  2. اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل

ردیف م

  1. مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم

ردیف ن

  1. واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
  2. میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
  3. لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
  4. کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں
  5. جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
  6. ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
  7. بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

ردیف و

  1. یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
  2. محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
  3. خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو
  4. جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہو

ردیف ی

  1. زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی
  2. شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
  3. کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی
  4. ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی
  5. ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی
  6. گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
  7. بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
  8. طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے
  9. یاں خاک کا بستر ہے، گلے میں کفنی ہے
  10. وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
  11. واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
  12. واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
  13. تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
  14. پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کے
  15. نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
  16. کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
  17. کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے
  18. عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے
  19. ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
  20. ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
  21. گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
  22. دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے