غزل
ردیف الف
- یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
- رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا
- قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
- پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
- نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
- نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
- نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
- نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
- کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا
- جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
- ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
ردیف چ
ردیف د
ردیف ر
ردیف ڑ
ردیف ف
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
- میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
- لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
- کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں
- جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
- ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
- بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
ردیف و
- یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
- محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
- خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو
- جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہو
ردیف ی
- زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی
- شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
- کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی
- ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی
- ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی
- گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
- بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
- طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے
- یاں خاک کا بستر ہے، گلے میں کفنی ہے
- وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
- واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
- واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
- تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
- پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کے
- نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
- کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
- کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے
- عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے
- ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
- ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
- گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
- دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے