بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولی
بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولی
سوز فرقت سے ز بس مجھ کو نہ بھائی ہولی
شعلۂ عشق بھڑکتا ہے تو کہتا ہوں رساؔ
دل جلانے کے لیے آہ یہ آئی ہولی
بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولی
سوز فرقت سے ز بس مجھ کو نہ بھائی ہولی
شعلۂ عشق بھڑکتا ہے تو کہتا ہوں رساؔ
دل جلانے کے لیے آہ یہ آئی ہولی
ماخذ: ویکی ماخذ · بھارتیندو ہریش چندر