غزل
ردیف الف
- پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا
- دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیا
- دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا
- دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا
- آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا
ردیف ن
- پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں
- خیال ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں
- غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں
- گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میں
- فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں
- اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں