غزل

ردیف الف

  1. پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا
  2. دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیا
  3. دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا
  4. دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا
  5. آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا

ردیف ن

  1. پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں
  2. خیال ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں
  3. غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں
  4. گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میں
  5. فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں
  6. اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں

ردیف ی

  1. رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی
  2. بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی
  3. بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گی
  4. اٹھا کے ناز سے دامن بھلا کدھر کو چلے
  5. نیند آتی ہی نہیں دھڑکے کی بس آواز سے
  6. جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہے
  7. بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہے
  8. عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہے