غزل

ردیف الف

  1. کر سکی کچھ نہ تری زلف سیاہ فام مرا
  2. جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
  3. جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا

ردیف ن

  1. اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میں
  2. آدھا مزہ وصال کا پائے ہوئے تو ہوں
  3. نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں

ردیف ھ

  1. ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھ

ردیف ی

  1. اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی
  2. اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کی
  3. شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہے
  4. عدو کی ان کے کوچہ میں مرمت ہونے والی ہے
  5. اللہ اللہ وصل کی شب اس قدر اعجاز ہے
  6. جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگے
  7. اچھلتا کودتا ہے خوش دل دیوانہ ہوتا ہے