غزل
ردیف الف
- باعث کوئی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
- یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا
- صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیا
- بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کا
- ساقیا کس کو ہوس ہے کہ پیو اور پلاؤ
- خدا بھی طرف دار نکلا تمہارا
- یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ
- پانی پانی ہو گیا جوش ابر دریا بار کا
- فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگا
- ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کا
ردیف ح
ردیف ر
- کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کر
- پانی سیانے دیتے ہیں کیا پھونک پھونک کر
- بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر
ردیف ن
- میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں
- قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن
- ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں
- اک طلسم عجب نما ہوں میں
- پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں
- میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں
- راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیں
- ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میں
- سارے عشاق سے ہم اچھے ہیں
- قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیں
- وصل کی ان بتوں سے آس نہیں
ردیف و
- دنیا میں بقا نہیں کسی کو
- حال دل کہنے کو کہتے ہو تو کب تم مجھ کو
- مقصد حاصل نہیں ہو یا ہو
- غم دنیا نہیں پھر کون سا غم ہے ہم کو
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- دل کو جب حاصل صفائی ہو گئی
- اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے
- کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے
- کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے
- لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنے
- حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہے
- ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئے
- عشاق میں نام ہو چکا ہے
- بتائیں کیا عمل عشق حقیقی کا کہاں تک ہے
- بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے
- آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے
- الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے
- کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہے
- عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاں
- زندگی کا کس لیے ماتم رہے
- جس کو خبر نہیں اسے جوش و خروش ہے