غزل

ردیف الف

  1. باعث کوئی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
  2. یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا
  3. صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیا
  4. بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کا
  5. ساقیا کس کو ہوس ہے کہ پیو اور پلاؤ
  6. خدا بھی طرف دار نکلا تمہارا
  7. یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ
  8. پانی پانی ہو گیا جوش ابر دریا بار کا
  9. فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگا
  10. ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کا

ردیف ح

  1. کیوں کر چبھے نہ آنکھ میں گل خار کی طرح

ردیف ر

  1. کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کر
  2. پانی سیانے دیتے ہیں کیا پھونک پھونک کر
  3. بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر

ردیف ن

  1. میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں
  2. قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن
  3. ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں
  4. اک طلسم عجب نما ہوں میں
  5. پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں
  6. میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں
  7. راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیں
  8. ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میں
  9. سارے عشاق سے ہم اچھے ہیں
  10. قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیں
  11. وصل کی ان بتوں سے آس نہیں

ردیف و

  1. دنیا میں بقا نہیں کسی کو
  2. حال دل کہنے کو کہتے ہو تو کب تم مجھ کو
  3. مقصد حاصل نہیں ہو یا ہو
  4. غم دنیا نہیں پھر کون سا غم ہے ہم کو

ردیف ہ

  1. لب ساغر سے سن لو زاہدو تقریر مے میخانہ

ردیف ھ

  1. دل کھو گیا ہمارا کسی سے ملا کے ہاتھ

ردیف ی

  1. دل کو جب حاصل صفائی ہو گئی
  2. اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے
  3. کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے
  4. کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے
  5. لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنے
  6. حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہے
  7. ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئے
  8. عشاق میں نام ہو چکا ہے
  9. بتائیں کیا عمل عشق حقیقی کا کہاں تک ہے
  10. بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے
  11. آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے
  12. الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے
  13. کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہے
  14. عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاں
  15. زندگی کا کس لیے ماتم رہے
  16. جس کو خبر نہیں اسے جوش و خروش ہے