غزل
ردیف الف
- درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا
- فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا
- اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا
- نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میرا
ردیف ن
- مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں
- کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی
- نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں
- کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میں
- ہم سوچتے ہیں رات میں تاروں کو دیکھ کر