غزل

ردیف الف

  1. مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
  2. ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا
  3. ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا
  4. یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا
  5. اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا
  6. رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھا
  7. مے سے روشن رہے ایاغ اپنا
  8. جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا
  9. صاف قاصد کو واں جواب ملا
  10. وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہمارا

ردیف پ

  1. مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپ

ردیف د

  1. ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفید

ردیف ذ

  1. ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذ

ردیف ر

  1. کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار

ردیف گ

  1. اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ

ردیف ن

  1. جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں
  2. سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں
  3. یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں
  4. صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں
  5. زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں
  6. رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں
  7. چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں
  8. دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں
  9. وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں
  10. ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں
  11. گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیں
  12. جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں
  13. لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں
  14. کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں
  15. یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میں
  16. قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
  17. مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں
  18. سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں

ردیف و

  1. تو نے مہجور کر دیا ہم کو
  2. چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو
  3. مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو

ردیف ہ

  1. ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ

ردیف ی

  1. سو قصوں سے بہتر ہے کہانی مرے دل کی
  2. ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی
  3. مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی
  4. آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے
  5. یاروں کی ہم سے دل شکنی ہو سکے کہاں