غزل
ردیف الف
- مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
- ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا
- ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا
- یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا
- اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا
- رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھا
- مے سے روشن رہے ایاغ اپنا
- جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا
- صاف قاصد کو واں جواب ملا
- وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہمارا
ردیف پ
ردیف د
ردیف ذ
ردیف ر
ردیف گ
ردیف ن
- جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں
- سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں
- یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں
- صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں
- زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں
- رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں
- چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں
- دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں
- وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں
- ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں
- گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیں
- جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں
- لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں
- کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں
- یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میں
- قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
- مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں
- سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں