غزل
ردیف الف
- ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا
- مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کا
- ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا
- شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا
- سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیا
- سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتا
- خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسا
- پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگا
ردیف ب
ردیف ر
ردیف ط
ردیف م
ردیف ن
- نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیں
- ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں
- نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوں
- کیا بنائے صانع قدرت نے پیارے ہاتھ پاؤں
- نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں