غزل

ردیف الف

  1. ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا
  2. مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کا
  3. ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا
  4. شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا
  5. سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیا
  6. سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتا
  7. خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسا
  8. پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگا

ردیف ب

  1. ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کب

ردیف ر

  1. دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اور

ردیف ط

  1. مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط

ردیف م

  1. بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسم

ردیف ن

  1. نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیں
  2. ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں
  3. نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوں
  4. کیا بنائے صانع قدرت نے پیارے ہاتھ پاؤں
  5. نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں

ردیف ھ

  1. جا لڑی یار سے ہماری آنکھ

ردیف ی

  1. وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئی
  2. آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے
  3. دل میں ترے اے نگار کیا ہے
  4. مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے
  5. جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے
  6. چاہت غمزے جتا رہی ہے