دیوان
اب
خط
نسخ
نستعلیق
نسخ کی موٹائی
حروف کا سائز
رنگ
سپیا
فیروزی
نیلگوں
سبز
گلابی
ہندسے
١٢٣ مشرقی
123 مغربی
روشنی
روشن
تاریک
خودکار
باسط بھوپالی
غزل
غزل
محفوظ کریں
ردیف الف
کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کا
کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا
شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا
ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا
عشق ستم پرست کیا حسن ستم شعار کیا
ردیف د
کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعد
ردیف ن
محبت کی انتہا چاہتا ہوں
وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریں
ردیف ی
حیات و موت کا اک سلسلا ہے
جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہے
نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والے
ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہے
سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئے
میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائے
معنی
ذخیرۂ الفاظ
محفوظ کریں
نوٹ
تلاش
کاپی
شیئر
گوگل
ہاں
نہیں