غزل

ردیف الف

  1. کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کا
  2. کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا
  3. شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا
  4. ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا
  5. عشق ستم پرست کیا حسن ستم شعار کیا

ردیف د

  1. کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعد

ردیف ن

  1. محبت کی انتہا چاہتا ہوں
  2. وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریں

ردیف ی

  1. حیات و موت کا اک سلسلا ہے
  2. جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہے
  3. نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والے
  4. ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہے
  5. سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئے
  6. میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائے