غزل

ردیف الف

  1. ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا
  2. سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا
  3. اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھا
  4. اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا
  5. کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیا
  6. نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا

ردیف ت

  1. تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت

ردیف ج

  1. کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج

ردیف ر

  1. گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کر

ردیف س

  1. منہ پہ کھاتا ہے یہ اس طرح سے تلوار کہ بس

ردیف ض

  1. کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض

ردیف ف

  1. دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرف

ردیف ل

  1. چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصل

ردیف م

  1. پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم

ردیف ن

  1. جب دیکھتا ہوں تنہا تجھ کو سجن چمن میں
  2. عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں
  3. مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں
  4. دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں
  5. کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں
  6. وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں

ردیف و

  1. شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھو

ردیف ی

  1. ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی
  2. محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالی
  3. یار کب دل کی جراحت پہ نظر کرتا ہے
  4. چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہے
  5. عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے
  6. کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے
  7. مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھے
  8. بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتے
  9. اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے
  10. یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے
  11. شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے
  12. حق مجھے باطل آشنا نہ کرے
  13. کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے
  14. گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے