غزل
ردیف الف
- ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا
- سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا
- اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھا
- اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا
- کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیا
- نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا
ردیف ت
ردیف ج
ردیف ر
ردیف س
ردیف ض
ردیف ف
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- جب دیکھتا ہوں تنہا تجھ کو سجن چمن میں
- عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں
- مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں
- دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں
- کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں
- وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں
ردیف و
ردیف ی
- ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی
- محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالی
- یار کب دل کی جراحت پہ نظر کرتا ہے
- چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہے
- عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے
- کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے
- مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھے
- بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتے
- اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے
- یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے
- شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے
- حق مجھے باطل آشنا نہ کرے
- کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے
- گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے