غزل

ردیف الف

  1. اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا
  2. تاب دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینا
  3. اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھا

ردیف د

  1. وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد

ردیف ر

  1. نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر
  2. ہزاروں کی جان لے چکا ہے یہ چہرہ زیر نقاب ہو کر

ردیف ن

  1. ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوں
  2. ایک جلوے کی ہوس وہ دم رحلت بھی نہیں

ردیف ی

  1. اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی
  2. حرص دولت کی نہ عز و جاہ کی
  3. زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے
  4. کلیجا منہ کو آتا ہے شب فرقت جب آتی ہے
  5. کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیے
  6. وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہے
  7. قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسے
  8. سارے عالم میں تیری خوشبو ہے
  9. روش اس چال میں تلوار کی ہے
  10. پھر مزاج اس رند کا کیونکر ملے