غزل
ردیف الف
- یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجا
- وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا
- صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا
- پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا
- نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا
- مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
- کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا
- جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا
- ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا
- ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا
- فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
- امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف ذ
ردیف ظ
ردیف ق
ردیف ن
- اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
- شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
- کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں
- ہم جو مست شراب ہوتے ہیں
- ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں
- گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں
- دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیں
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری
- ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
- گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑی
- زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
- وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہے
- تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
- ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے
- قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے
- مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے
- میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
- جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے
- دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے
- اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے