غزل

ردیف الف

  1. یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجا
  2. وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا
  3. صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا
  4. پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا
  5. نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا
  6. مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
  7. کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا
  8. جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا
  9. ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا
  10. ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا
  11. فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
  12. امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا

ردیف ب

  1. پلا ساقیا ارغوانی شراب
  2. ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جواب

ردیف ت

  1. بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات

ردیف ذ

  1. کیا روکے قضا کے وار تعویذ

ردیف ظ

  1. چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ

ردیف ق

  1. ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق

ردیف ن

  1. اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
  2. شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
  3. کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں
  4. ہم جو مست شراب ہوتے ہیں
  5. ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں
  6. گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں
  7. دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیں

ردیف و

  1. پہلے تو مجھے کہا نکالو
  2. اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو

ردیف ہ

  1. سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
  2. چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ

ردیف ھ

  1. دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ

ردیف ی

  1. پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری
  2. ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
  3. گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑی
  4. زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
  5. وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہے
  6. تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
  7. ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے
  8. قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے
  9. مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے
  10. میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
  11. جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے
  12. دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے
  13. اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے