غزل

ردیف الف

  1. وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا
  2. یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ
  3. تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا

ردیف ن

  1. جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپن
  2. ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیں
  3. بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں
  4. کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میں

ردیف و

  1. پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہو

ردیف ہ

  1. میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ

ردیف ی

  1. ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی
  2. میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سے
  3. شہر لگتا ہے بیابان مجھے
  4. پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے
  5. جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے
  6. اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے