غزل
ردیف الف
- مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
- خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
- ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا
- سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کا
- بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنا
- چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا
- سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
- قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا
- جب حسن بے مثال پر اتنا غرور تھا
- چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلا
- اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا
- فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا
- قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا
- دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتا
- قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوا
- روشن تمام کعبہ و بت خانہ ہو گیا
- واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا
- آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگا
- دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا
- وحشت تھی ہم تھے سایۂ دیوار یار تھا
- سایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کا
- جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتا
- چلتا نہیں فریب کسی عذر خواہ کا
- پالا امید و بیم سے ناگاہ پڑ گیا
ردیف ر
- آپ میں کیونکر رہے کوئی یہ ساماں دیکھ کر
- رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کر
- قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار
- دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہار
- دیتی ہے وحشت دل فصل بہاراں کی خبر
ردیف س
ردیف ن
- دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیں
- کیسی کیسی بستیاں دو دن میں ویراں ہو گئیں
- خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میں
- یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
- پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں
- کچھ زرد زرد پتے نشاں جو خزاں کے ہیں
- شکوۂ درد جگر اے مہرباں کیوں کر کریں
ردیف و
ردیف ی
- کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
- حسن پر فرعون کی پھبتی کہی
- محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی
- آہ بیمار کارگر نہ ہوئی
- اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گی
- کس دل سے ترک لذت دنیا کرے کوئی
- کس کی آواز کان میں آئی
- جب تک خلش درد خدا داد رہے گی
- زمانہ خدا کو خدا جانتا ہے
- موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیے
- سلامت رہیں دل میں گھر کرنے والے
- زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے
- کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
- مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتے
- دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھے
- یار کی تصویر ہی دکھلا دے اے مانی مجھے
- آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے
- لپٹتی ہے بہت یاد وطن جب دامن دل سے
- کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سے
- غضب کی دھوم شبستان روزگار میں ہے
- برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائے
- گر یاد میں ساقی کی ساغر نظر آ جائے
- درد دل روئیں کس امید پہ بیگانے سے
- دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے
- ہنوز درد جدائیٔ یار باقی ہے
- ٹھوکریں کھلوائیں کیا کیا پائے بے زنجیر نے
- یار ہے آئنہ ہے شانہ ہے
- خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرے
- اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے