غزل

ردیف الف

  1. مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
  2. خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
  3. ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا
  4. سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کا
  5. بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنا
  6. چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا
  7. سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
  8. قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا
  9. جب حسن بے مثال پر اتنا غرور تھا
  10. چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلا
  11. اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا
  12. فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا
  13. قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا
  14. دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتا
  15. قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوا
  16. روشن تمام کعبہ و بت خانہ ہو گیا
  17. واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا
  18. آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگا
  19. دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا
  20. وحشت تھی ہم تھے سایۂ دیوار یار تھا
  21. سایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کا
  22. جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتا
  23. چلتا نہیں فریب کسی عذر خواہ کا
  24. پالا امید و بیم سے ناگاہ پڑ گیا

ردیف ر

  1. آپ میں کیونکر رہے کوئی یہ ساماں دیکھ کر
  2. رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کر
  3. قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار
  4. دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہار
  5. دیتی ہے وحشت دل فصل بہاراں کی خبر

ردیف س

  1. خداؤں کی خدائی ہو چکی بس

ردیف ن

  1. دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیں
  2. کیسی کیسی بستیاں دو دن میں ویراں ہو گئیں
  3. خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میں
  4. یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
  5. پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں
  6. کچھ زرد زرد پتے نشاں جو خزاں کے ہیں
  7. شکوۂ درد جگر اے مہرباں کیوں کر کریں

ردیف و

  1. خزاں کے جور سے واقف کوئی بہار نہ ہو

ردیف ی

  1. کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
  2. حسن پر فرعون کی پھبتی کہی
  3. محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی
  4. آہ بیمار کارگر نہ ہوئی
  5. اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گی
  6. کس دل سے ترک لذت دنیا کرے کوئی
  7. کس کی آواز کان میں آئی
  8. جب تک خلش درد خدا داد رہے گی
  9. زمانہ خدا کو خدا جانتا ہے
  10. موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیے
  11. سلامت رہیں دل میں گھر کرنے والے
  12. زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے
  13. کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
  14. مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتے
  15. دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھے
  16. یار کی تصویر ہی دکھلا دے اے مانی مجھے
  17. آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے
  18. لپٹتی ہے بہت یاد وطن جب دامن دل سے
  19. کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سے
  20. غضب کی دھوم شبستان روزگار میں ہے
  21. برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائے
  22. گر یاد میں ساقی کی ساغر نظر آ جائے
  23. درد دل روئیں کس امید پہ بیگانے سے
  24. دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے
  25. ہنوز درد جدائیٔ یار باقی ہے
  26. ٹھوکریں کھلوائیں کیا کیا پائے بے زنجیر نے
  27. یار ہے آئنہ ہے شانہ ہے
  28. خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرے
  29. اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے