غزل

ردیف الف

  1. ہوشؔ اس پر کسی کا بس نہ چلا
  2. مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگا
  3. جاوداں غم عہد عشرت تیز پا

ردیف ب

  1. وہی صبح کا دھندھلکا وہی منزلیں وہی شب

ردیف ت

  1. میں نے اب سمجھا ہے راز کائنات

ردیف ر

  1. نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیر

ردیف ل

  1. فکر ہستی ہے نہ احساس اجل

ردیف ن

  1. اب آؤ سرود غم سنائیں

ردیف ہ

  1. وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہ

ردیف ی

  1. محبت کی فطرت ہے یہ بے قراری
  2. سناؤں تمہیں زندگی کی کہانی
  3. مجھے یاد ہیں وہ دن جو تری بزم میں گزارے