غزل

ردیف الف

  1. الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہوا
  2. کسی سے عشق دشمن کا گلہ کیا

ردیف ن

  1. رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میں
  2. ادائیں ہیں جو اس رشک پری میں
  3. سوائے عشق بتاں اور مجھ کو کام نہیں

ردیف ی

  1. مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطے
  2. رنج میں بھی شاد رہنا چاہئے
  3. عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہے
  4. نہیں غم گر خفا سارا جہاں ہے