غزل

ردیف الف

  1. جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھا
  2. بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا
  3. تقدیر شمع جلوۂ جانانہ بن گیا
  4. حسن حجاب آشنا جانب بام آ گیا

ردیف ن

  1. جس قدر ہیں حسن کی زیبائیاں
  2. اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دن
  3. سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیں

ردیف و

  1. چاک سینے کا بہ انداز جگر ہو کہ نہ ہو
  2. کہو دیر و حرم یا نام اپنا آستاں رکھ دو

ردیف ی

  1. اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہے
  2. عمر کار جہاں سے گزری ہے
  3. یہ دھوکا ہو نہ ہو امید ہی معلوم ہوتی ہے
  4. تاروں والی رات کا عالم پینے اور پلانے سے
  5. کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نے
  6. زبان شمع کھلتی ہے نہ کچھ پروانہ کہتا ہے
  7. یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے