دیوان وقار (۱۸۷۸)

ردیف الف

  1. کبھی بالوں کو سلجھایا تو ہوتا
  2. شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچا
  3. ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتا
  4. دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایا
  5. عاشقی میں ہے جان کا کھٹکا
  6. دیکھ کر مے منہ میں پانی شیخ کے بھر آئے گا

ردیف ب

  1. سوز سے ساز کیا چاہئے اب

ردیف ٹ

  1. تری اے شاہ خوباں ہو بلا چٹ

ردیف ج

  1. عشق ہے اس زلف کا سرتاج آج

ردیف د

  1. عارض سے ترے بہار مقصود

ردیف ڑ

  1. کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑ

ردیف ط

  1. خود غلط وہ قول و فعل ان کا غلط

ردیف ع

  1. سوز پروانہ نور دین شمع

ردیف ل

  1. کل کہاں بچاری بلبل اور کہاں بچارا گل

ردیف ن

  1. حسن صورت میں گرچہ بود نہیں
  2. رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دن
  3. چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریں
  4. مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوں
  5. گاہ بسمل ہوں گہے تکبیر ہوں
  6. چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیں
  7. وہ بت بول اٹھے کسی بات میں
  8. میں پا شکستہ کہاں طفل نے سوار کہاں
  9. عاشق گیسو دوتا ہوں میں
  10. جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دن

ردیف و

  1. دوستو حال دل زار ذرا اس سے کہو
  2. کعبہ کو جائیں کس لیے اور کیوں کنشت کو

ردیف ھ

  1. الفت شیریں کو بھاری سل سمجھ

ردیف ی

  1. پامال خرام ناز کیجے
  2. قیس وہ ناتوان صحرا ہے
  3. قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئے
  4. ہو عید یا محرم ہم غم کیا کریں گے
  5. اس کی دیوار کا جو روزن ہے
  6. خط کی رخسار پر سیاہی ہے
  7. وہ مژہ مارتی کٹاری ہے
  8. گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئے
  9. مرغ جاں کو زلف پیچاں جال ہے
  10. باغ الفت میں گل جو خود رو ہے