دیوان وقار (۱۸۷۸)
ردیف الف
- کبھی بالوں کو سلجھایا تو ہوتا
- شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچا
- ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتا
- دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایا
- عاشقی میں ہے جان کا کھٹکا
- دیکھ کر مے منہ میں پانی شیخ کے بھر آئے گا
ردیف ب
ردیف ٹ
ردیف ج
ردیف د
ردیف ڑ
ردیف ط
ردیف ع
ردیف ل
ردیف ن
- حسن صورت میں گرچہ بود نہیں
- رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دن
- چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریں
- مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوں
- گاہ بسمل ہوں گہے تکبیر ہوں
- چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیں
- وہ بت بول اٹھے کسی بات میں
- میں پا شکستہ کہاں طفل نے سوار کہاں
- عاشق گیسو دوتا ہوں میں
- جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دن