غزل

ردیف الف

  1. اک آفت جاں ہے جو مداوا مرے دل کا
  2. چارہ ساز زخم دل وقت رفو رونے لگا
  3. بھولے سے بھی نہ جانب اغیار دیکھنا
  4. غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیا
  5. وصل کی شب بھی ادائے رسم حرماں میں رہا

ردیف ظ

  1. کیوں خرابات میں لاف ہمہ دانی واعظ

ردیف ن

  1. فکر ہے شوق کمر عشق دہاں پیدا کروں
  2. تھک گئے تم حسرت ذوق شہادت کم نہیں

ردیف و

  1. کرو نہ دیر جہاں میں جہاں سے آگے چلو
  2. وصل میں بگڑے بنے یار کے اکثر گیسو

ردیف ی

  1. پارسائی ان کی جب یاد آئے گی
  2. بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھی
  3. کہنے سننے سے مری ان کی عداوت ہو گئی
  4. چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے
  5. گر یہی ہے عادت تکرار ہنستے بولتے
  6. شمیم یار نہ جب تک چمن میں چھو آئے