فسانہء مبتلا
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۱ پہلا باب: مبتلا کی ولادت اور طفولیت
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۲ بہرکیف مبتلا کسی نہ کسی طرح خدا کے فضل سے پل پلا کر بڑا ہوا۔ یہاں تک کہ ان گنا یعنی آٹھواں برس بھی خ…
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۳ دوسرا باب: مبتلا کی تعلیم مکتبی اور اس کا اثر
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۴ تیسرا باب: مدرسے کی تعلیم اور بُری صحبت
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۵ چوتھا باب: مبتلا کا بیاہ
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۶ ہمارے نزدیک دنیا جہان کے نزدیک تو جڑ بنیاد سے کٹ گئی۔ جس گھر سے رقعے کی واپسی کا مذکور ہے اس گھر کی …
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۷ پانچواں باب :مبتلا کی بدکرداریاں اور مصیبتوں کا آغاز
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۸ چھٹا باب: مبتلا کے چچا کی حج سے واپسی
- فسانہء مبتلا ۔ ۰۹ غرض وہ سب کاسٹ پٹانا اور ایک کا ایک سے پوچھنا اور ایک ایک سامنے ہاتھ جوڑنا۔ ایک ایک کے پاؤں پڑنا ایک…
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۰ ساتواں باب: میر متقی کی مبتلا کی بیوی سے ملاقات ماموں کا آنا سن کر بھانجی کو ماں باپ اور ساس سسر کا …
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۱ کیا کوئی فانی ایک فانی حالت کے لیے اتنا غل مچاتا اور اس قدر روتا پیٹتا، مصیبت پر جو منفعت ہم نے ہمیش…
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۲ آٹھواں باب :میرمتقی کی مبتلا کے اُمور خانہ داری کی اصلاح میں کوشش
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۳ نواں باب: سید حاضر کے روبرو میرمتقی کا وعظ
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۴ حاضر: اس کا نام غریبا۔
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۵ ہنگاموں اور خانہ جنگیوں میں اکثر سزا کا پلہ دونوں طرف برابر رہتا ہے۔ مگر سیدوں نے بڑا غضب یہ کیا کہ …
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۶ دسواں باب: حاضر بہن کو حق دینے پر آمادہ اور ناظر کی رنجش
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۷ حاضر: کیا تم نے مجھ کو مجنوں قرار دیا ہے یا مخبوط الحواس سمجھا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا ہے جو …
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۸ گیارہواں باب: غیرت بیگم سے انصاف
- فسانہء مبتلا ۔ ۱۹ گیارہواں باب: غیرت بیگم سے انصاف
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۰ بارہواں باب: سید ناظر کے فسادات
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۱ تیرہواں باب: میر متقی کا مبتلا کو سمجھانا
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۲ مرغ ازبیضہ بروں آیدور ذری طلبد
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۳ اس لیے انسان کی تعلیم و تربیت کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر چیز اس کی عمر کا ایک مناسب وقت دیکھ کر سکھاتے ہیں…
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۴ یہی خصوصیت ان لوگوں کے حق میں سم قاتل ہے جن کی طبیعتیں لامذہبی کی طرف مائل ہیں۔ غور کرنے کی تو ان لو…
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۵ چودہواں باب: مبتلا پر میرمتقی کے وعظ کے اثرات
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۶ پندرہواں باب: میرمتقی کی اچانک رام پور روانگی
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۷ سولہواں باب: میرمتقی کے بعد مبتلا کی حالت
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۸ مبتلا: (چونک کر) میں اور حسن سے نفرت تو یوں کہیے کہ میرے سر سے دماغ کو اور دماغ سے عقل کو اور عقل سے…
- فسانہء مبتلا ۔ ۲۹ مبتلا: میں ایسا سمجھتا ہوں کہ اسی رغبت میں جس کا طبیعی ہونا آپ تسلیم کرتے ہیں۔ سراپا کو ایسا مدخل ہے…
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۰ آخر غور کرتے کرتے یہ بات سمجھ میں آئی کہ جس طرح اب لوگوں میں اعلیٰ اور ادنیٰ اور شریف اور وضیع اور خ…
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۱ مبتلا: بس آپ کے نزدیک تو دنیا میں حکومت اور دولت دو ہی چیزیں ہیں۔ اجی حضرت میں حسن کی دولت رکھتا ہوں…
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۲ قطعہ
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۳ قریب تھا کہ بیگم تو اس کو صبر کر کے بیٹھ رہے۔ اتنے میں تو میرمتقی کو سنا کہ تشریف لے گئے۔ بیگم تو اس…
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۴ انیسواں باب: مبتلا اور عارف کا مباحثہ
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۵ مبتلا: جس چیز کے جواز کے لیے نص قرآنی موجود ہے۔ اس سے آپ کی مخالفت کا سبب؟
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۶ بیسواں باب: مبتلا کا دوسرا نکاح
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۷ غیرت بیگم: گھر میں کوئی بڑا بوڑھا ہو تو ان باتوں کا دھیان رکھے۔ بچے ذرا ماندے پڑتے ہیں تو میرے ہوش و…
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۸ بات یہ ہے کہ حقیقت میں وہ آج شاموں شام تک کنچنی تھی۔ مگر میں اس کو ایک مدت سے جانتا ہوں۔ ہمیشہ یہ مج…
- فسانہء مبتلا ۔ ۳۹ اکیسواں باب: سوکن کا راز فاش
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۰ بس تو مجھ کو مبتلا بھائی سے دو باتیں کر لینے دو۔ انشاء اللہ میں کوئی ایسی راہ نکالوں گا کہ دونوں میا…
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۱ مبتلا: اگر آپ کہیں تو میں اس عورت کو چھوڑ دوں۔
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۲ بائیسواں باب: دو سوکنوں کی لڑائی کے گھر اور اہلخانہ پہ اثرات
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۳ بیگم: لانا، ایک انگار کہ اس کم بخت ناشدنی کا منہ جلاؤں۔ نگوڑا، بدوں کا بد، گندی بوٹی کا بساندا شوربا…
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۴ تئیسواں باب: حاملہ ہریالی سے غیرت بیگم کا انتقام
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۵ خاتون: مدتیں ہوئیں مرکھپ گئی۔ ستر پچھتر برس کی تو وہ میری سوکن کے وقت میں تھی۔
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۶ غرض زبردستی گھوسن کے ہاتھ سے ہنڈیا چھین ڈیوڑھی میں لے گھسی اور سنکھیا کی پڑھیا دودھ میں گھول ہنڈیا گ…
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۷ ناظر کی بہن نے سوکن کو زہر دلوایا مگر وہ اتفاق سے بچ گئی کل حضور بھی واقع واردات تک چلیں ورنہ وکیل ص…
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۸ ناظر: خیر اب آپ فرماتے ہیں اور آپ کا قدم درمیان میں ہے تو میں اس مقدمہ میں ہاتھ ڈالتا ہوں مگر مبتلا …
- فسانہء مبتلا ۔ ۴۹ ناظر: کیا معلوم کہ عدالت تک پہنچتے پہنچتے گھوسن اپنے بیان پر قائم بھی رہتی ہے یا نہیں اور فرض کرو قا…
- فسانہء مبتلا ۔ ۵۰ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اور ہم نے تو جس دن پولیس میں نام لکھوایا۔ اسی دن سمجھ لیا تھا کہ ایک نہ ایک دن…
- فسانہء مبتلا ۔ ۵۱ چوبیسواں باب: مبتلا اور ہریالی کا بگاڑ
- فسانہء مبتلا ۔ ۵۲ دو بیویوں کے ساتھ خانہ داری اور مبتلا
- فسانہء مبتلا ۔ ۵۳ چھبیسواں باب: مبتلا کی حالت زار اور موت
- فسانہء مبتلا ۔ ۵۴ ستائیسواں باب: خاتمہ