کرشمۂ عشق (۱۹۲۲)

ردیف الف

  1. ترے ابرو پہ بل آیا تو ہوتا

ردیف د

  1. ہے خاک بسر صبا مرے بعد

ردیف ر

  1. آئے ہیں بادہ نوش بڑی آن بان پر

ردیف ص

  1. غنچے کو ہے ترے دہن کی حرص

ردیف ف

  1. جاتا ہے کون آپ سے جلاد کی طرف

ردیف ق

  1. نہ تو میں حور کا مفتوں نہ پری کا عاشق

ردیف م

  1. بہار آئی کر اے باغباں گلاب قلم

ردیف و

  1. کون کہتا ہے تم ادا نہ کرو