غزل
ردیف الف
- کون سی وہ شمع تھی جس کا میں پروانہ ہوا
- لا مکاں نام ہے اجڑے ہوئے ویرانے کا
- دل بہلنے کا جہاں میں کوئی ساماں نہ ہوا
- پھیر لیں آنکھیں مروت دیکھنا
- نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جانا
- وفا شعار کو تو نے ذلیل و خوار کیا
- مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا
- کر کے قول و قرار کیا کہنا
- ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا
- دل سے پوچھو کیا ہوا تھا اور کیوں خاموش تھا
ردیف ر
ردیف م
ردیف ن
ردیف و
- شرم آلود کہیں دیدۂ غماز نہ ہو
- نو گرفتار محبت کبھی آزاد نہ ہو
- دل میں اگر نہ عشق و محبت کی چاہ ہو
- وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کو