غزل
ردیف الف
- وقت آخر ہمیں دیدار دکھایا نہ گیا
- میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتا
- دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا
- کیا سلام جو ساقی سے ہم نے جام لیا
- جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹا
- میرے آگے تذکرہ معشوق و عاشق کا برا
- آتش باغ ایسے بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا
- وہ رشک مہر و قمر گھات پر نہیں آتا
- گیا سب اندوہ اپنے دل کا تھمے اب آنسو قرار آیا
- چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آ
- آتش باغ ایسی بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا
- ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیا
- آشنا کوئی باوفا نہ ملا
- محبوب خدا نے تجھے نایاب بنایا
- سرو میں رنگ ہے کچھ کچھ تری زیبائی کا
- مر گئے پر بھی نہ ہو بوجھ کسی پر اپنا
- قدرداں کوئی نہ اسفل ہے نہ اعلیٰ اپنا
- داغ بیعانہ حسن کا نہ ہوا
- بشر روز ازل سے شیفتہ ہے شان و شوکت کا
- بتو خدا پہ نہ رکھو معاملہ دل کا
- ایفائے وعدہ آپ سے اے یار ہو چکا
- میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کا
- شور ہے اس سبزۂ رخسار کا
- امور خیر میں کچھ اہتمام ہو نہ سکا
- یہ کیا کہا مجھے او بد زباں بہت اچھا
- اس طرح زیست بسر کی کوئی پرساں نہ ہوا
ردیف ب
- آہوں سے ہوں گے گنبد ہفت آسماں خراب
- بغیر یار گوارا نہیں کباب شراب
- آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سبب
- ہمیں ناشاد نظر آتے ہیں دل شاد ہیں سب
- جڑاؤ چوڑیوں کے ہاتھوں میں پھبن کیا خوب
ردیف پ
- روشن ہزار چند ہیں شمس و قمر سے آپ
- کبھی تو دیکھے ہماری عرق فشانی دھوپ
- آبلہ خار سر مژگاں نے پھوڑا سانپ کا
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف د
ردیف ر
ردیف ڑ
ردیف ز
ردیف ل
ردیف ن
- ایسے پر نور و ضیا یار کے رخسارے ہیں
- میں اس بت کا وصل اے خدا چاہتا ہوں
- گردش چرخ سے قیام نہیں
- ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیں
- محرم کے ستارے ٹوٹتے ہیں
- خوب رویان جہاں چاند کی تنویریں ہیں
- کس سے ہوں داد خواہ کوئی دادرس نہیں
- پھل آتے ہیں پھول ٹوٹتے ہیں
- چور صدموں سے ہو بعید نہیں
ردیف و
- جس کو چاہو تم اس کو بھر دو
- وصل میں ذکر غیر کا نہ کرو
- بد طالعی کا علاج کیا ہو
- دل سے سمجھوں گا اسے دشمن جاں ہونے دو
ردیف ی
- بولئے کرتا ہوں منت آپ کی
- دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کی
- اب مرنا ہے اپنے خوشی ہے جینے سے بے زاری ہے
- غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے
- دوستو دل کہیں زنہار نہ آنے پائے
- خدا پرست ہوئے ہم نہ بت پرست ہوئے
- سب حسینوں میں وہ پیارا خوب ہے
- یہ دل ہے تو آفت میں پڑتے رہیں گے
- افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سے
- خورشید فراق میں تپاں ہے
- سینہ کوبی کر چکے غم کر چکے
- جاتے ہے خانقاہ سے واعظ سلام ہے
- دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئے
- جب کہ سر پر وبال آتا ہے
- خورشید رخوں کا سامنا ہے
- ہر طرف مجمع عاشقاں ہے
- فرقت کی آفت برے دن کاٹنا سال ہے
- گیا جوانی کا ساتھ سب کچھ وہ گرمئ عشق اب کہاں ہے
- ہم خزاں کی اگر خبر رکھتے
- خدا پرست ہوئے نہ ہم بت پرست ہوئے
- جلوۂ ارباب دنیا دیکھیے
- آراستگی بڑی جلا ہے
- شکوہ نہ رقیبوں سے نہ جاناں سے گلا ہے
- وفا میں برابر جسے تول لیں گے
- خوب رو سب ہیں مگر حورا شمائل ایک ہے