غزل

ردیف الف

  1. وقت آخر ہمیں دیدار دکھایا نہ گیا
  2. میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتا
  3. دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا
  4. کیا سلام جو ساقی سے ہم نے جام لیا
  5. جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹا
  6. میرے آگے تذکرہ معشوق و عاشق کا برا
  7. آتش باغ ایسے بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا
  8. وہ رشک مہر و قمر گھات پر نہیں آتا
  9. گیا سب اندوہ اپنے دل کا تھمے اب آنسو قرار آیا
  10. چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آ
  11. آتش باغ ایسی بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا
  12. ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیا
  13. آشنا کوئی باوفا نہ ملا
  14. محبوب خدا نے تجھے نایاب بنایا
  15. سرو میں رنگ ہے کچھ کچھ تری زیبائی کا
  16. مر گئے پر بھی نہ ہو بوجھ کسی پر اپنا
  17. قدرداں کوئی نہ اسفل ہے نہ اعلیٰ اپنا
  18. داغ بیعانہ حسن کا نہ ہوا
  19. بشر روز ازل سے شیفتہ ہے شان و شوکت کا
  20. بتو خدا پہ نہ رکھو معاملہ دل کا
  21. ایفائے وعدہ آپ سے اے یار ہو چکا
  22. میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کا
  23. شور ہے اس سبزۂ رخسار کا
  24. امور خیر میں کچھ اہتمام ہو نہ سکا
  25. یہ کیا کہا مجھے او بد زباں بہت اچھا
  26. اس طرح زیست بسر کی کوئی پرساں نہ ہوا

ردیف ب

  1. آہوں سے ہوں گے گنبد ہفت آسماں خراب
  2. بغیر یار گوارا نہیں کباب شراب
  3. آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سبب
  4. ہمیں ناشاد نظر آتے ہیں دل شاد ہیں سب
  5. جڑاؤ چوڑیوں کے ہاتھوں میں پھبن کیا خوب

ردیف پ

  1. روشن ہزار چند ہیں شمس و قمر سے آپ
  2. کبھی تو دیکھے ہماری عرق فشانی دھوپ
  3. آبلہ خار سر مژگاں نے پھوڑا سانپ کا

ردیف ت

  1. نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی بات
  2. سیر اس سبزۂ عارض کی ہے دشوار بہت
  3. کبھی دیکھیں جو روئے یار درخت

ردیف ٹ

  1. ساقی ترے بغیر ہے محفل سے دل اچاٹ

ردیف د

  1. تارے گنتے رات کٹتی ہی نہیں آتی ہے نیند
  2. نہیں ہونے کا یہ خون جگر بند

ردیف ر

  1. ہم آج کل ہیں نامہ نویسی کی تاؤ پر

ردیف ڑ

  1. تیری ہر اک بات ہے نشتر نہ چھیڑ

ردیف ز

  1. ایسی کوئل نہ پپیہے کی ہے پیاری آواز
  2. جب دست بستہ کی نہیں عقدہ کشا نماز

ردیف ل

  1. نفس سرکش کو قتل کر اے دل
  2. چننے نہ دیا ایک مجھے لاکھ جھڑے پھول

ردیف ن

  1. ایسے پر نور و ضیا یار کے رخسارے ہیں
  2. میں اس بت کا وصل اے خدا چاہتا ہوں
  3. گردش چرخ سے قیام نہیں
  4. ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیں
  5. محرم کے ستارے ٹوٹتے ہیں
  6. خوب رویان جہاں چاند کی تنویریں ہیں
  7. کس سے ہوں داد خواہ کوئی دادرس نہیں
  8. پھل آتے ہیں پھول ٹوٹتے ہیں
  9. چور صدموں سے ہو بعید نہیں

ردیف و

  1. جس کو چاہو تم اس کو بھر دو
  2. وصل میں ذکر غیر کا نہ کرو
  3. بد طالعی کا علاج کیا ہو
  4. دل سے سمجھوں گا اسے دشمن جاں ہونے دو

ردیف ی

  1. بولئے کرتا ہوں منت آپ کی
  2. دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کی
  3. اب مرنا ہے اپنے خوشی ہے جینے سے بے زاری ہے
  4. غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے
  5. دوستو دل کہیں زنہار نہ آنے پائے
  6. خدا پرست ہوئے ہم نہ بت پرست ہوئے
  7. سب حسینوں میں وہ پیارا خوب ہے
  8. یہ دل ہے تو آفت میں پڑتے رہیں گے
  9. افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سے
  10. خورشید فراق میں تپاں ہے
  11. سینہ کوبی کر چکے غم کر چکے
  12. جاتے ہے خانقاہ سے واعظ سلام ہے
  13. دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئے
  14. جب کہ سر پر وبال آتا ہے
  15. خورشید رخوں کا سامنا ہے
  16. ہر طرف مجمع عاشقاں ہے
  17. فرقت کی آفت برے دن کاٹنا سال ہے
  18. گیا جوانی کا ساتھ سب کچھ وہ گرمئ عشق اب کہاں ہے
  19. ہم خزاں کی اگر خبر رکھتے
  20. خدا پرست ہوئے نہ ہم بت پرست ہوئے
  21. جلوۂ ارباب دنیا دیکھیے
  22. آراستگی بڑی جلا ہے
  23. شکوہ نہ رقیبوں سے نہ جاناں سے گلا ہے
  24. وفا میں برابر جسے تول لیں گے
  25. خوب رو سب ہیں مگر حورا شمائل ایک ہے