غزل
ردیف الف
- داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گا
- ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا
- طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا
- کر سیر اپنے دل کی ہے نور کا تماشا
- تعین تسلسل ہے نقش بدن کا
- ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا
- ہستیٔ نیست نما دیدۂ حیراں سمجھا
- اگر اتنا نہ تو عیار ہوتا
- حریص ہو نہ جہاں میں نہ اپنا جی بھٹکا
- دل سوختہ کو اپنے جلایا غضب کیا
- گیا سب رنج و غم کنج قفس کا
- حسرت و امید کا ماتم رہا
- وہ رم شعار مرا شوخ دیدہ آیا تھا
- دل زندہ خود رہنما ہو گیا
- غضب کے طیش میں وہ شوخ دیدہ آیا تھا
ردیف ب
ردیف پ
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف ر
ردیف ص
ردیف ق
ردیف م
ردیف ن
- کیوں آ گئے ہیں بزم ظہور و نمود میں
- اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیں
- وہ آئے نگار میں نہ مانوں
- وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیں