دیوان پروین (۱۹۱۴)
ردیف الف
- محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا
- نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا
- غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا
- دیکھو تو ذرا غضب خدا کا
ردیف ت
ردیف چ
ردیف ح
ردیف خ
ردیف د
ردیف ذ
ردیف س
ردیف ص
ردیف ض
ردیف ظ
ردیف ع
ردیف ق
ردیف ک
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں
- جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں
- اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میں
- نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں
- میری عزت بڑھ گئی اک پان میں
- نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں
- بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں
- وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں
- بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں
- کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں
- دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں
- میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں