دیوان پروین (۱۹۱۴)

ردیف الف

  1. محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا
  2. نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا
  3. غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا
  4. دیکھو تو ذرا غضب خدا کا

ردیف ت

  1. نکالی جائے کس ترکیب سے تقریر کی صورت
  2. خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت

ردیف چ

  1. مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ

ردیف ح

  1. پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح

ردیف خ

  1. پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ

ردیف د

  1. مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

ردیف ذ

  1. بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذ

ردیف س

  1. نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس

ردیف ص

  1. میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص

ردیف ض

  1. جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرض

ردیف ظ

  1. ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظ

ردیف ع

  1. ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاع

ردیف ق

  1. دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق
  2. جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق

ردیف ک

  1. کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک
  2. جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریک

ردیف ل

  1. بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل
  2. زباں ہے بے خبر اور بے زباں دل

ردیف م

  1. خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم

ردیف ن

  1. بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں
  2. جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں
  3. اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میں
  4. نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں
  5. میری عزت بڑھ گئی اک پان میں
  6. نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں
  7. بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں
  8. وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں
  9. بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں
  10. کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں
  11. دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں
  12. میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں

ردیف ہ

  1. پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ
  2. ہجر میں غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہ
  3. میں چپ کم رہا اور رویا زیادہ

ردیف ی

  1. کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی
  2. دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی
  3. کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے
  4. متکبر نہ ہو زردار بڑی مشکل ہے