غزل
ردیف الف
- یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
- وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا
- تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
- تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا
- شغل بہتر ہے عشق بازی کا
- مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا
- جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہوا
- جب صنم کوں خیال باغ ہوا
- دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ردیف ن
- میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوں
- خوب رو خوب کام کرتے ہیں
- دل ہوا ہے مرا خراب سخن
- چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں
- بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں
- عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں
ردیف و
ردیف ہ
- سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہ
- کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ
- ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ
- ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
ردیف ھ
ردیف ی
- ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے
- ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے
- مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کے
- مفلسی سب بہار کھوتی ہے
- کمر اس دل ربا کی دل ربا ہے
- جسے عشق کا تیر کاری لگے
- جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہے
- عشق میں صبر و رضا درکار ہے
- عشق بیتاب جاں گدازی ہے
- دل طلب گار ناز مہوش ہے
- دل کوں تجھ باج بے قراری ہے
- اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے
- آج سر سبز کوہ و صحرا ہے