غزل

ردیف الف

  1. یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
  2. وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا
  3. تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
  4. تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا
  5. شغل بہتر ہے عشق بازی کا
  6. مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا
  7. جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہوا
  8. جب صنم کوں خیال باغ ہوا
  9. دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا

ردیف ن

  1. میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوں
  2. خوب رو خوب کام کرتے ہیں
  3. دل ہوا ہے مرا خراب‌ سخن
  4. چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں
  5. بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں
  6. عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں

ردیف و

  1. صحبت غیر موں جایا نہ کرو

ردیف ہ

  1. سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہ
  2. کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ
  3. ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ
  4. ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ

ردیف ھ

  1. آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ

ردیف ی

  1. ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے
  2. ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے
  3. مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کے
  4. مفلسی سب بہار کھوتی ہے
  5. کمر اس دل ربا کی دل ربا ہے
  6. جسے عشق کا تیر کاری لگے
  7. جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہے
  8. عشق میں صبر و رضا درکار ہے
  9. عشق بیتاب جاں گدازی ہے
  10. دل طلب گار ناز مہوش ہے
  11. دل کوں تجھ باج بے قراری ہے
  12. اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے
  13. آج سر سبز کوہ و صحرا ہے