غزل
ردیف الف
- واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیا
- ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا
- قبر پر باد فنا آئیے گا
- داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیا
- بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیا
- اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا
- اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیا
- عدوئے جاں بت بے باک نکلا
- آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگا
- آئی اے گلعذار کیا کہنا
ردیف ج
ردیف ر
ردیف ظ
ردیف ل
ردیف ن
- رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میں
- محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیں
- کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں
- عشق کا اختتام کرتے ہیں
- دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں