غزل

ردیف الف

  1. جھوٹے وعدوں پر تمہاری جائیں کیا
  2. جب خدا کو جہاں بسانا تھا
  3. اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گا
  4. میرے سر میں جو رات چکر تھا
  5. قید تن سے روح ہے ناشاد کیا
  6. دل سنگ نہیں ہے کہ ستم گر نہ بھر آتا
  7. محفل میں اس پہ رات جو تو مہرباں نہ تھا
  8. غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیا
  9. کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کا

ردیف ت

  1. کسی کا دل کو رہا انتظار ساری رات

ردیف ع

  1. صبح دم روتی جو تیری بزم سے جاتی ہے شمع

ردیف ف

  1. کیوں دیکھیے نہ حسن خداداد کی طرف

ردیف ک

  1. بہے ساتھ اشک کے لخت جگر تک

ردیف ن

  1. اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیں
  2. زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں
  3. ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں

ردیف و

  1. اس بت بے مثال کا پہلو
  2. یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہو
  3. سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہو

ردیف ھ

  1. دل سے کیا پوچھتا ہے زلف گرہ گیر سے پوچھ

ردیف ی

  1. روتے ہیں سن کے کہانی میری
  2. حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہے
  3. شیخ کے حال پر تأسف ہے
  4. شراب خون جگر ہے ہم کو شراب ہم لے کے کیا کریں گے
  5. سمجھایا بہت دل کو سمجھانے کو کیا کہیے
  6. جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہے