غزل
ردیف الف
- جھوٹے وعدوں پر تمہاری جائیں کیا
- جب خدا کو جہاں بسانا تھا
- اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گا
- میرے سر میں جو رات چکر تھا
- قید تن سے روح ہے ناشاد کیا
- دل سنگ نہیں ہے کہ ستم گر نہ بھر آتا
- محفل میں اس پہ رات جو تو مہرباں نہ تھا
- غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیا
- کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کا
ردیف ت
ردیف ع
ردیف ف
ردیف ک
ردیف ن
- اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیں
- زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں
- ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں