غزل
ردیف الف
- الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا
- سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھا
- پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا
- محبت سے بندہ بنا لیجئے گا
- لجیائی سے نازک ہے اے جان بدن تیرا
- چاک چاک اپنا گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا
- برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لا
ردیف ض
ردیف م
ردیف ن
- نایاب ہے سکون دل بے قرار میں
- گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیں
- دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیں
- اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤ
- اے نسیم سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیں