غزل
ردیف الف
ردیف ر
ردیف ل
ردیف ن
ردیف ی
- چارہ فرمائی دل رسم بتاں ہے تو سہی
- یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلق
- زندگی زہر کا اک جام ہوئی جاتی ہے
- دل نا مطمئن اندیشۂ برق تپاں میں ہے
- زمانہ کیا دیکھیے دکھائے نہ جانے کیا انقلاب آئے
- اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیا
- بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہے
- رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سے
- جنوں تعلیم کچھ فرما رہا ہے
- عہد حاضر میں عیار صبح تو بدلا مگر