غزل

ردیف الف

  1. اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگا

ردیف ر

  1. ہوں کالبد خاک میں مہماں کوئی دن اور

ردیف ل

  1. واہ فسون آب و گل

ردیف ن

  1. گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں

ردیف ی

  1. چارہ فرمائی دل رسم بتاں ہے تو سہی
  2. یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلق
  3. زندگی زہر کا اک جام ہوئی جاتی ہے
  4. دل نا مطمئن اندیشۂ برق تپاں میں ہے
  5. زمانہ کیا دیکھیے دکھائے نہ جانے کیا انقلاب آئے
  6. اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیا
  7. بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہے
  8. رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سے
  9. جنوں تعلیم کچھ فرما رہا ہے
  10. عہد حاضر میں عیار صبح تو بدلا مگر