غزل
ردیف الف
- دونوں گھروں کا لطف جداگانہ مل گیا
- خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیا
- کوئی نہیں پچھتانے والا
- محبت کا اچھا نتیجہ نہ دیکھا
- چین ہو یا بے چینی ہو پہلے دل گھبرائے گا
- گلشن میں کبھی ہم سنتے تھے وہ کیا تھا زمانہ پھولوں کا
- بطور یادگار زہد مے خانے میں رکھ دینا
- شکوؤں پہ ستم آہوں پہ جفا سو بار ہوئی سو بار ہوا
- عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا
ردیف ب
ردیف ٹ
ردیف ج
ردیف د
ردیف ڑ
ردیف ز
ردیف ف
ردیف گ
ردیف ن
- میں کسی شوخ کی گلی میں نہیں
- میں تردد سے کبھی خالی نہیں
- خیال میں اک نہ اک مزے کی نئی کہانی ہے اور ہم ہیں
- اس حسیں کا خیال ہے دل میں
- حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیں
- مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں
- ہم عشق میں ان مکاروں کے بے فائدہ جلتے بھنتے ہیں
- کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیں
- میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں
- یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیں
- اہل الفت سے تنے جاتے ہیں
- تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں
- آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
ردیف و
- کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہو
- دل ہماری طرف سے صاف کرو
- مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھو
- اگر اس کا مرا جھگڑا یہیں طے ہو تو اچھا ہو
ردیف ہ
ردیف ی
- جو اچھے ہیں ان کی کہانی بھی اچھی
- یوں نہ میری بات مانی جائے گی
- نکھر آئی نکھار آئی سنور آئی سنوار آئی
- ابھی کم سن ہیں معلومات کتنی
- سوال وصل پہ عذر وصال کر بیٹھے
- ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے
- گل زار میں یہ کہتی ہے بلبل گل تر سے
- اپنے اپنے رنگ میں یکتا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے
- کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہے
- ہر صدائے عشق میں اک راز ہے