غزل

ردیف الف

  1. دونوں گھروں کا لطف جداگانہ مل گیا
  2. خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیا
  3. کوئی نہیں پچھتانے والا
  4. محبت کا اچھا نتیجہ نہ دیکھا
  5. چین ہو یا بے چینی ہو پہلے دل گھبرائے گا
  6. گلشن میں کبھی ہم سنتے تھے وہ کیا تھا زمانہ پھولوں کا
  7. بطور یادگار زہد مے خانے میں رکھ دینا
  8. شکوؤں پہ ستم آہوں پہ جفا سو بار ہوئی سو بار ہوا
  9. عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا

ردیف ب

  1. ہماری جب ہماری اب ہماری کب سے کیا مطلب

ردیف ٹ

  1. کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ

ردیف ج

  1. کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج

ردیف د

  1. فروغ حسن میں کیا بے ثبات دل کا وجود

ردیف ڑ

  1. ہمیشہ تمنا و حسرت کا جھگڑا ہمیشہ وفا و محبت کا ہلڑ

ردیف ز

  1. مانا کہ مرا دل بھی جگر بھی ہے کوئی چیز
  2. دولت ہے بڑی چیز حکومت ہے بڑی چیز

ردیف ف

  1. وہ کریں گے مرا قصور معاف

ردیف گ

  1. کیا کہوں ہم نشیں یہ میرا بھاگ

ردیف ن

  1. میں کسی شوخ کی گلی میں نہیں
  2. میں تردد سے کبھی خالی نہیں
  3. خیال میں اک نہ اک مزے کی نئی کہانی ہے اور ہم ہیں
  4. اس حسیں کا خیال ہے دل میں
  5. حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیں
  6. مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں
  7. ہم عشق میں ان مکاروں کے بے فائدہ جلتے بھنتے ہیں
  8. کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیں
  9. میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں
  10. یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیں
  11. اہل الفت سے تنے جاتے ہیں
  12. تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں
  13. آپ جن کے قریب ہوتے ہیں

ردیف و

  1. کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہو
  2. دل ہماری طرف سے صاف کرو
  3. مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھو
  4. اگر اس کا مرا جھگڑا یہیں طے ہو تو اچھا ہو

ردیف ہ

  1. بحر غم میں دل کا قرینہ

ردیف ی

  1. جو اچھے ہیں ان کی کہانی بھی اچھی
  2. یوں نہ میری بات مانی جائے گی
  3. نکھر آئی نکھار آئی سنور آئی سنوار آئی
  4. ابھی کم سن ہیں معلومات کتنی
  5. سوال وصل پہ عذر وصال کر بیٹھے
  6. ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے
  7. گل زار میں یہ کہتی ہے بلبل گل تر سے
  8. اپنے اپنے رنگ میں یکتا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے
  9. کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہے
  10. ہر صدائے عشق میں اک راز ہے