ساقیا ہے یہ جام کا عالم
ردیف: کا عالم
ساقیا ہے یہ جام کا عالم
جیسے ماہ تمام کا عالم
کبک رفتار اپنی بھول گئے
دیکھو اس کے خرام کا عالم
اب خدا پھر ہمیں نہ دکھلائے
شب ہجراں کی شام کا عالم
تجھ پہ ہے ان دنوں میں نام خدا
کچھ عجب دھوم دھام کا عالم
ردیف: کا عالم
ساقیا ہے یہ جام کا عالم
جیسے ماہ تمام کا عالم
کبک رفتار اپنی بھول گئے
دیکھو اس کے خرام کا عالم
اب خدا پھر ہمیں نہ دکھلائے
شب ہجراں کی شام کا عالم
تجھ پہ ہے ان دنوں میں نام خدا
کچھ عجب دھوم دھام کا عالم
ماخذ: ویکی ماخذ · نواب سلیمان شکوہ