غزل

ردیف الف

  1. یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا
  2. پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا
  3. آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا

ردیف پ

  1. کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ

ردیف ح

  1. اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرح

ردیف ر

  1. جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر
  2. ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر
  3. احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر

ردیف ف

  1. یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف
  2. پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف

ردیف ن

  1. مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤ
  2. اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں
  3. کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں
  4. سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں
  5. کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں

ردیف و

  1. عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو
  2. یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو
  3. ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو

ردیف ھ

  1. یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ
  2. کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ

ردیف ی

  1. آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری
  2. سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی
  3. تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے
  4. اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے
  5. بدعت مسنون ہو گئی ہے