غزل
ردیف الف
- یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا
- پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا
- آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا
ردیف پ
ردیف ح
ردیف ر
- جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر
- ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر
- احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر
ردیف ف
ردیف ن
- مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤ
- اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں
- کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں
- سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں
- کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں
ردیف و
- عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو
- یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو
- ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو