غزل
ردیف الف
- ہم کو شب وصال بھی رنج و محن ہوا
- مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کا
- کہنے سے نہ منع کر کہوں گا
- کہتے ہیں سن کے ماجرا میرا
- گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتا
- یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیا
- یہ عجب تم نے نکالا سونا
- کیوں کرتے ہو اعتبار میرا
- ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارا
- وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
- تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیا
- دیکھیے تو خیال خام مرا
- گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا
- دل لگے ہجر میں کیوں کر میرا
ردیف م
ردیف ن
- دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوں
- جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میں
- جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروں
- واں تو ملنے کا ارادہ ہی نہیں
- حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دن
- تصور آپ کا ہے اور میں ہوں
ردیف و
ردیف ھ
- ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ
- چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھ
- انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
ردیف ی
- مزا کیا جو یوں ہی سحر ہو گئی
- اس سے پھر کیا گلا کرے کوئی
- ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی
- کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی
- فکر یہی ہے ہر گھڑی غم یہی صبح و شام ہے
- ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائے
- صاف باتوں میں تو کدورت ہے
- کہیے گر ربط مدعی سے ہے
- وہی لوگ پھر آنے جانے لگے
- جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گے
- خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہے
- صدمے یوں غیر پر نہیں آتے
- تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہے
- مری سانس اب چارا گر ٹوٹتی ہے
- بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہے
- کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیے
- وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سے
- کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے
- نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھے
- محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئے
- اس قدر آپ کا عتاب رہے