غزل

ردیف الف

  1. ہم کو شب وصال بھی رنج و محن ہوا
  2. مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کا
  3. کہنے سے نہ منع کر کہوں گا
  4. کہتے ہیں سن کے ماجرا میرا
  5. گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتا
  6. یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیا
  7. یہ عجب تم نے نکالا سونا
  8. کیوں کرتے ہو اعتبار میرا
  9. ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارا
  10. وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
  11. تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیا
  12. دیکھیے تو خیال خام مرا
  13. گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا
  14. دل لگے ہجر میں کیوں کر میرا

ردیف م

  1. اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہم

ردیف ن

  1. دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوں
  2. جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میں
  3. جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروں
  4. واں تو ملنے کا ارادہ ہی نہیں
  5. حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دن
  6. تصور آپ کا ہے اور میں ہوں

ردیف و

  1. دیکھ اپنے قرار کرنے کو

ردیف ھ

  1. ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ
  2. چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھ
  3. انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

ردیف ی

  1. مزا کیا جو یوں ہی سحر ہو گئی
  2. اس سے پھر کیا گلا کرے کوئی
  3. ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی
  4. کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی
  5. فکر یہی ہے ہر گھڑی غم یہی صبح و شام ہے
  6. ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائے
  7. صاف باتوں میں تو کدورت ہے
  8. کہیے گر ربط مدعی سے ہے
  9. وہی لوگ پھر آنے جانے لگے
  10. جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گے
  11. خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہے
  12. صدمے یوں غیر پر نہیں آتے
  13. تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہے
  14. مری سانس اب چارا گر ٹوٹتی ہے
  15. بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہے
  16. کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیے
  17. وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سے
  18. کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے
  19. نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھے
  20. محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئے
  21. اس قدر آپ کا عتاب رہے