دیوان نشتر (۱۹۳۰)

ردیف الف

  1. درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہوا
  2. وہ بھی کیا دن تھے کہ جب چاہ نہ تھی پیار نہ تھا
  3. نہ جس میں آرزو ہوتی نہ جس میں مدعا ہوتا
  4. اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتا
  5. جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھا
  6. عبث فکر دوا میں ہے پریشاں چارہ گر میرا

ردیف ن

  1. ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیں
  2. میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میں
  3. تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیں

ردیف و

  1. نہ بکھرایا کرو تم بیٹھے بیٹھے زلف پیچاں کو

ردیف ی

  1. تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتے
  2. کیا بچے دل جان لیوا اس کا ہر انداز ہے
  3. آئے ہیں فاتحہ کو وہ گیسو سنوار کے