دیوان نشتر (۱۹۳۰)
ردیف الف
- درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہوا
- وہ بھی کیا دن تھے کہ جب چاہ نہ تھی پیار نہ تھا
- نہ جس میں آرزو ہوتی نہ جس میں مدعا ہوتا
- اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتا
- جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھا
- عبث فکر دوا میں ہے پریشاں چارہ گر میرا
ردیف ن
- ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیں
- میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میں
- تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیں