غزل

ردیف الف

  1. آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایا
  2. آئی بہار دور ہو ساقی شراب کا
  3. میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتا
  4. سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہرا
  5. میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہوا

ردیف ت

  1. مہرباں مجھ پہ ہو اے رشک قمر آج کی رات

ردیف ر

  1. سبزۂ خط ہے پیمبر رخ ہے قرآن بہار

ردیف ن

  1. وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں
  2. قبول کیجیے انکار کا مقام نہیں

ردیف و

  1. دریا و موج سا کبھی ہم سے جدا نہ ہو

ردیف ی

  1. جنبش ابروئے قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
  2. تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتے
  3. ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسے