غزل
ردیف الف
- دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیا
- ہاتھوں میں آج کی شب مہندی لگایئے گا
- آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کا
- نکل آیا وہ گھبرا کر دل اس کا اس قدر دھڑکا
- مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکا
- شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
- منظور ہے ناپنا کمر کا
- بگڑے وہ لاکھ طرح مگر گل نہ ہو سکا
- کسی صورت تو دل کو شاد کرنا
- دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیا
- گلی میں بخت کے ان کا بھی کچھ قصہ نکل آیا
- کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھا
- ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملا
- شکایت سے غرض کیا مدعا کیا
- ماتم بہت رہا مجھے اشک چکیدہ کا
ردیف ت
ردیف ر
ردیف ظ
ردیف م
ردیف ن
ردیف ی
- دیتے ہو بوسہ تو کہیں لاؤ بھی
- اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی
- لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاری
- اب وہ گلی جائے خطر ہو گئی
- آیا ہے خیال بے وفائی
- دیکھی دل دے کے قدر دانی
- اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکے
- گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہے
- نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہے
- ملنے کے نہیں نشاں ہمارے
- ناصح مشفق یہ مشق تازہ فرمانے لگے
- برہم ہیں وہ غیر بے حیا سے
- شکایت کے عوض ہم شکر کرتے ہیں صنم تیرے
- ہے کہے دیتے ہیں زحمت خوردہ ہے
- فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گے
- کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہے
- سفر ہے دشوار خواب کب تک بہت پڑی منزل عدم ہے
- مری جان رنج گھٹائیے قدم آگے اب نہ بڑھائیے
- وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گے
- لو ضعف سے اب یہ حال تن ہے
- پیتے ہیں مے گناہ بہ قصد ثواب ہے
- باہم بلند و پست ہیں کیف شراب کے
- پھر اس کے پھندے میں جا رہے ہیں کہ جس کے پھندے میں جا چکے تھے
- حقیقت سے زباں آگاہ کر لے
- رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گے
- کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھے
- یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گے
- سن لے یہ التماس مرا دوستانہ ہے
- کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کے