غزل

ردیف الف

  1. دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیا
  2. ہاتھوں میں آج کی شب مہندی لگایئے گا
  3. آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کا
  4. نکل آیا وہ گھبرا کر دل اس کا اس قدر دھڑکا
  5. مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکا
  6. شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
  7. منظور ہے ناپنا کمر کا
  8. بگڑے وہ لاکھ طرح مگر گل نہ ہو سکا
  9. کسی صورت تو دل کو شاد کرنا
  10. دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیا
  11. گلی میں بخت کے ان کا بھی کچھ قصہ نکل آیا
  12. کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھا
  13. ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملا
  14. شکایت سے غرض کیا مدعا کیا
  15. ماتم بہت رہا مجھے اشک چکیدہ کا

ردیف ت

  1. غنچے نے تاج گل نے کیا پیرہن درست

ردیف ر

  1. کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کر
  2. قربان ہو رہی ہے مری جاں ادھر ادھر

ردیف ظ

  1. پاک ہے لذت عشرت سے زبان واعظ

ردیف م

  1. دیکھ او قاتل بسر کرتے ہیں کس مشکل سے ہم
  2. زرگر و حداد خوش ہوں وہ کریں تدبیر ہم

ردیف ن

  1. الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیں
  2. بہ لب چوسے ہوئے کیوں کر نہیں ہیں
  3. بھولوں تمہیں وہ بشر نہیں ہوں

ردیف ی

  1. دیتے ہو بوسہ تو کہیں لاؤ بھی
  2. اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی
  3. لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاری
  4. اب وہ گلی جائے خطر ہو گئی
  5. آیا ہے خیال بے وفائی
  6. دیکھی دل دے کے قدر دانی
  7. اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکے
  8. گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہے
  9. نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہے
  10. ملنے کے نہیں نشاں ہمارے
  11. ناصح مشفق یہ مشق تازہ فرمانے لگے
  12. برہم ہیں وہ غیر بے حیا سے
  13. شکایت کے عوض ہم شکر کرتے ہیں صنم تیرے
  14. ہے کہے دیتے ہیں زحمت خوردہ ہے
  15. فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گے
  16. کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہے
  17. سفر ہے دشوار خواب کب تک بہت پڑی منزل عدم ہے
  18. مری جان رنج گھٹائیے قدم آگے اب نہ بڑھائیے
  19. وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گے
  20. لو ضعف سے اب یہ حال تن ہے
  21. پیتے ہیں مے گناہ بہ قصد ثواب ہے
  22. باہم بلند و پست ہیں کیف شراب کے
  23. پھر اس کے پھندے میں جا رہے ہیں کہ جس کے پھندے میں جا چکے تھے
  24. حقیقت سے زباں آگاہ کر لے
  25. رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گے
  26. کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھے
  27. یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گے
  28. سن لے یہ التماس مرا دوستانہ ہے
  29. کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کے