غزل

ردیف الف

  1. زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیا
  2. صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیا
  3. روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیا
  4. خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا
  5. آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہوا

ردیف ب

  1. بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سب

ردیف ت

  1. دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورت

ردیف ج

  1. الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج

ردیف ح

  1. رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح

ردیف د

  1. گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفید

ردیف ن

  1. لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں
  2. بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیں

ردیف ی

  1. ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتی