غزل
ردیف الف
- دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھا
- کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیا
- فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگا
- دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا
- مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہونا
- جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوا
ردیف ب
ردیف ح
ردیف ر
ردیف ن
ردیف ہ
ردیف ی
- بے دلوں کی آبرو رہ جائے گی
- صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی
- قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سے
- فراق یار کا خطرہ وصال یار میں ہے
- آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گے
- کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہے
- تیرے سوا نگاہوں میں اے یار کون ہے
- خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہے
- وقت رخصت چلتے چلتے کہہ گئے
- پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہے
- یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہے