غزل

ردیف الف

  1. دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھا
  2. کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیا
  3. فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگا
  4. دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا
  5. مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہونا
  6. جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوا

ردیف ب

  1. ایک دنیا مست اک عالم خراب

ردیف ح

  1. اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح

ردیف ر

  1. مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایا

ردیف ن

  1. جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیں
  2. میں جو یہ آشیاں بناتا ہوں
  3. ہے وہی ناز آفریں آئینہ نیاز میں

ردیف ہ

  1. نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہ

ردیف ی

  1. بے دلوں کی آبرو رہ جائے گی
  2. صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی
  3. قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سے
  4. فراق یار کا خطرہ وصال یار میں ہے
  5. آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گے
  6. کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہے
  7. تیرے سوا نگاہوں میں اے یار کون ہے
  8. خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہے
  9. وقت رخصت چلتے چلتے کہہ گئے
  10. پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہے
  11. یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہے