دیوان
اب
خط
نسخ
نستعلیق
نسخ کی موٹائی
حروف کا سائز
رنگ
سپیا
فیروزی
نیلگوں
سبز
گلابی
ہندسے
١٢٣ مشرقی
123 مغربی
روشنی
روشن
تاریک
خودکار
ناصری لکھنوی
غزل
نذر احباب (۱۹۳۳)
نذر احباب (۱۹۳۳)
محفوظ کریں
ردیف الف
دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوا
اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا
قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسا
باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کا
ردیف ن
دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیں
ردیف و
یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہو
ردیف ی
یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کی
دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی
یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہے
کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سے
دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرے
اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے
میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سے
جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئے
معنی
ذخیرۂ الفاظ
محفوظ کریں
نوٹ
تلاش
کاپی
شیئر
گوگل
ہاں
نہیں